بدھ 21 اکتوبر 2026 - 20:25
غزہ میں تباہی کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنے والے ایک استاد کی داستان

حوزہ / غزہ کے کھنڈرات میں، جہاں جنگ نے علمی مراکز کو بند کرا دیا ہے، ایک استاد خالی ہاتھوں مگر امید سے بھرے دل کے ساتھ ایسے بچوں کے ذہنوں میں مستقبل کے بیج بو رہا ہے جو اب بھی ایک روشن کل کی تعمیر کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ذیل میں عرب میڈیا کارکن رائد موسیٰ کی ایک رپورٹ سے ماخوذ مختصر روئیداد پیش کی جا رہی ہے، جس میں جنگ کی تباہ کاریوں کے درمیان غزہ کے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ایک فلسطینی استاد کی زحمات کو بیان کیا گیا ہے۔

غزہ میں، جہاں جنگ نے بہت سے اسکولوں کو تباہ کر دیا ہے، آج بھی ایسے اساتذہ موجود ہیں جو تعلیم کے چراغ کو بجھنے نہیں دینا چاہتے۔

فلسطینی استاد محمود حمد تمام تر مشکلات کے باوجود تدریس سے دست بردار نہیں ہوئے۔ وہ اپنے طلبہ کو کھلے میدانوں، درختوں کے سائے اور تباہ شدہ اسکولوں کے صحنوں میں جمع کرتے ہیں تاکہ بچے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

یہاں نہ جدید سہولتوں سے آراستہ کلاس رومز ہیں اور نہ ہی اسکول کی معمول کی سہولیات لیکن استاد بچوں کو یہ سکھانے کے لیے موجود ہے کہ بدترین حالات میں بھی مستقبل کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔

اس سادہ سی کلاس کو مؤثر اور دل نشین بنانے والی چیز ان بچوں کے خواب ہیں جو کھنڈرات میں زندگی گزارنے کے باوجود اپنے روشن مستقبل کی امید رکھتے ہیں۔

سات سالہ طالب علم معتصم انجینئر بننا چاہتا ہے تاکہ غزہ کے تباہ شدہ کارخانوں کو دوبارہ تعمیر کر سکے۔

سما ڈاکٹر بننے کی آرزو رکھتی ہے تاکہ زخمیوں کی مدد کر سکے، جبکہ نو سالہ جود معلمہ بننا چاہتی ہے تاکہ ایک دن وہ خود دوسرے بچوں کو تعلیم دے سکے۔

ان بچوں کو تعلیمی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے اور ان میں سے بہت سے بچے زندگی کے کٹھن ترین دن گزار چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے خوابوں سے دست برداری اختیار نہیں کی۔

ان کے لیے تعلیم حاصل کرنا محض چند الفاظ اور اعداد سیکھنے کا نام نہیں، بلکہ بہتر مستقبل تک پہنچنے کا راستہ ہے۔

محمود حمد کھنڈرات میں کلاسیں منعقد کرکے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ تعلیم کو صرف دیواروں اور عمارتوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

شاید آج یہ بچے اسکول کی معمول کی نشستوں پر نہیں بیٹھے لیکن وہ اب بھی اسپتالوں، اسکولوں اور کارخانوں کی تعمیر کے خواب دیکھ سکتے ہیں۔

غزہ میں اسکول تباہ ہو گئے ہیں، لیکن بچوں کے خواب اب بھی زندہ ہیں اور وہاں ایسے اساتذہ موجود ہیں جو ایک روشن مستقبل امید کو ملبے تلے دفن نہیں ہونے دیتے۔

ماخذ: الجزیرہ کی رپورٹ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha